انتہا-ے -وجود – Delhi Poetry Slam

انتہا-ے -وجود

By Iqbal Ahmad

آسماں کو چھت ، زمیں کو بستر بناتے ہیں

ہم خواب کو نیلام کر سانسیں اگاتے ہیں 

 

فضاؤں کو ملتا نہین کبھی اپنے گھر کا راستہ 

بہتی ہواؤں پی ہم اپنے گھر بناتے ہیں  

 

ہمسے چپے پھرتے ہیں سارے موت کے خنجر بھی اب 

ہر گھونٹ زہر پی کے ہم پیاسیں بجھاتے ہیں  

 

نچوڈتے رہتے ہیں ہر پل وقت کے قطرے ہمیں 

سوکھے ہوئے درخت بھی تو جلاے جاتے ہیں  

 

ایسا نہیں کے شکایت ہے مجھے دنیاوی رسم-و -رواج سے 

یہ قایدے بچچوں کو میرے زددی بناتے ہیں  

 

مشکل بڑا ہے بھول پانا انتہا-ے -وجود کا 

سب شجر مٹی مے ہی تو پروے جاتے ہین 


Leave a comment